0
علامہ کی سیرت
WhatsApp Image 2022-01-21 at 5.34
تعارف

.

ابتدائی تعلیم خیرپور میرس سندھ سے حاصل کرنے کے بعد حیدرآباد سے ہائر ایجوکیشن کا مرحلہ مکمل کیا۔ جبکہ دینی تعلیم کے لیے مشارع العلوم حیدرآباد مولانا سید ثمر حسن زیدی مرحوم سے استفادہ کے بعد ایران حوزہ علمیہ قم میں تعلیم حاصل کی جہاں  مختلف علماء فقراء سے کسب فیض کیا۔۲۰۰۶ میں القائم ٹرسٹ کی بنیاد رکھی جبکہ اس وقت چالیس سے زیادہ ادارے قائم ہوچکے ہیں۔ ۲۰۰۵ میں جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور کی ذمہ داریاں قبول کی۔

پچاس سے زیادہ ممالک کے تبلیغی سفر کر چکے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں چھوٹے بڑے تمام شہروں میں خطابات کے علاوہ سیمیناروں اور کانفرنسوں میں شریک رہے چکے ہیں۔

ساٹھ سے زیادہ مذہبی، سماجی، انسانی اور اخلاقی کتابوں کے مترجم اور معلم و مصنف ہیں۔ جبکہ ۵۰۰ سے زیادہ مقّالات مختلف مجلوں اور اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ مجموعی طور پر ۱۶ ہزار سے زیادہ خطابات سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔

سیاسی نظریات

.

علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کے سیاسی نظریات کا محور “حسینیت” کا پیغام ہے، ان کا ماننا ہے کہ امام حسین ابن امام علی علیہ السلام کا راستہ ہی آزادی، خود مختاری اور امن کا سرچشمہ ہے۔ وہ کشمیر اور فلسطین کے حقوق کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور عالمی اداروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان خطوں میں مداخلت کریں جہاں مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، جن میں کشمیر، فلسطین، بحرین، یمن، شام، قطیف، افغانستان، نائیجیریا اور روہنگیا شامل ہیں۔ علامہ کے مطابق، کربلا کا جذبہ ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونا ہے تاکہ مظلوموں کی حتمی فتح کو یقینی بنایا جا سکے۔ وہ دہشت گردی، ناانصافی، کرپشن اور فحاشی کو “یزیدیت” کی مختلف شکلیں قرار دیتے ہیں اور انہیں غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے حسینیت کے پرچم تلے ان کا مقابلہ کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔

WhatsApp Image 2022-01-21 at 5.34